بنگلورو5؍فروری (ایس او نیوز)مہادائی منصوبے سے کرناٹکا اور گوا ریاستوں کے درمیان کھڑے ہونے والے تنازعے کو حل کرنے کے تعلق سے مداخلت کیے بغیروزیر اعظم خاموش تماشائی بنے رہنے کے خلاف بنگلورو میں وزیرا عظم کی آمد شمالی کرناٹکا کے کسان اور کنڑا حامی تنظیموں نے ’سیاہ دن‘ منایا اوراحتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم کے گھیراؤ کا منصوبہ بنایا تھا۔مگر پولیس نے اس کا موقع نہ دیتے ہوئے احتجاجیوں کو وقتی طور پر گرفتار کرلیا۔
بنگلورو کے فریڈم پارک میں احتجاجی مظاہرین کالے جھنڈوں کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔کچھ احتجاجی بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھے ہوئے تھے جبکہ بہت سے لوگوں نے کالا لباس پہن رکھا تھا۔ان کا مطالبہ تھا کہ مہادائی مسئلے پر وزیر اعظم کو بیان دینا چاہیے۔احتجاجیوں نے وزیر اعظم کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سات مرتبہ ریاست کرناٹکا کا دورہ کرچکے ہیں مگر انہوں نے مہادائی اور کالسا باندوری آبی تنازعہ حل کرنے کے سلسلے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا ئی ہے۔کنڑا حامی وفاق کے صدر واٹال ناگراج کی قیادت میں جب احتجاجی مظاہرین پیالیس گراونڈ میں وزیراعظم کا گھیراؤ کرنے کی تیاری کررہے تھے تو پولیس نے فریڈم پارک میں ہی ان احتجاجیوں کو اپنی حراست میں لے لیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے واٹال ناگراج نے وزیراعظم کے اس رویے کی مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی لیڈروں کی زبان پر لگام نہیں ہے۔ جو بھی من میں آیا وہ بول دیتے ہیں۔ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے والے ایسے لیڈروں کو نمہانس(دماغی علاج کیلئے) اسپتال میں داخل کرنا چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا آئندہ اراکین پارلیمان کے خلاف بھی احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔واٹال ناگراج کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پینے کے پانی سمیت ریاست کے لئے کوئی بھی عوامی مفاد کی بات موجود نہیں ہے۔مہادائی مسئلے پر ’کرناٹکا بند‘ منائے جانے کے بعد بھی وزیر اعظم نے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔جبکہ ’بنگلوروبند‘ منانے کی راہ میں کچھ مفاد پرستوں کی وجہ سے رکاوٹ آئی ہے۔